اپنا صفحہ | ہم سے رابطہ کیجیے۔ |صوفی نفسیاتی علاج
صوفی نفسیاتی طریقۂ علاج کی اپنی منفرد تعلیمات کے ذریعے حضرت صلاح الدین علی نادر عنقا لوگوں میں پائے جانے والے جذباتی اور نفسیاتی دکھ درد اور تکالیف کو ذہنی بیماری کے بجائے روحانی بیماری سے متعارف و متوصف کرتے ہیں۔ صوفی نفسیاتی علاج کا نصب العین روح کی شفایابی اور محبوب (خدا) سے ملاپ ہے یعنی کائنات کی آسمانی پیداواری توانائی جسے ہم اکثر خدا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ تجربے پر مبنی علم حاصل کرنے کا عمل اس نصب العین کو پانے کے لئے ضروری ہے جسکے نتیجے میں ایک گہری اور مستقل تبدیلی حاصل ہوتی ہے۔
صوفی نفسیاتی علاج کے سیکھنے کا عمل خاص الصفاتی اور بے حد ذاتی نوعیت کا ہے۔ اگرچہ صوفی نفسیاتی علاج طبیعاتی پہلو کو تسلیم اور بھر پور طریقے سے استعمال کرتا ہے لیکن مابعد الطبیعات کا عالم بھی اسکے مدِ نظر ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر تصوف اور صوفی نفسیاتی علاج کا نصب العین خود آگہی اور خود علمی ہی ہوتا ہے اور پھر اسی خود آگہی کے ذریعے اسی خالقِ حقیقی کی آگہی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ الفاظ اور خیالات سچائی پر پردہ ڈال دیتے ہیں لہٰذا صوفی نفسیاتی علاج میں انہیں درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ تمام زور روحانی پیشوا یعنی حضرت پیر صاحب کی نگہبانی و نگرانی میں اندرونی و قلبی نشو و نما پر مرکوز رکھا جاتا ہے۔ ایم ٹی او کی تخلیق کردہ نفسیات یہ سکھاتی ہے کہ ہم میں ہر کوئی قابلیت، استعداد اور قوت کی اعلٰی تر صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ صوفی نفسیاتی علاج کے ذریعے ہم اپنی ذات میں موجود اعلٰی ترین مقامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ پیداواری افزائش و ترقیات پر نظر ہونے کے سبب ہمیں اپنی اصل اور سچی شناخت اور مقصدِ حیات معلوم ہو جاتا ہے۔ اسی عمل پر رواں دواں ہو کر ہم جس طمانیت اور حفظِ حیات کے متلاشی ہوتے ہیں، وہی ہمیں نصیب ہو جاتا ہے۔ معالجاتی جانکاری کا عمل فرد اور تمرکز کی مشقوں کی بنیاد ہے۔ تمرکز جسے صوفی مراقبہ بھی کہتے ہیں اگرچہ یہ وجہ تسمیہ صحیح نہیں ہے، اسکا بنیادی جزو ہے۔ ان مشقوں پر عمل پیرا ہو کر ذہنی بے توجہی اور بے ربطی جو مادی دنیا گاہ بہ گاہ اپنی سعائی سے خواہشات اور ضروریات کی تخلیق و تحریک کا موجب ہوتی ہیں، میں تخفیف پیدا ہوتی ہے۔ انہی کے ذریعے ذاتی اور قائم نظری پیدا ہوتی ہے جسکی بدولت توجہ کی یکسوئی حاصل کرکے ہم قلب و روح کی شفایابی سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
| واپس اوپر جائیے۔ | اپنا صفحہ | |